گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
(علامہ اقبال)
اسلام کی تعلیمات کا وہ زریں دور تھا جب تشنگان علوم نبویہ حصول علم کے لیے مدارس اور جامعات کا نہیں بلکہ اساتذہ کا انتخاب کیا کرتے تھے، یہ فکر بنی ہوئی تھی کہ فلاں علم فلاں صاحبِ علم سے حاصل کرنا ہے، جو علم و عمل میں کامل اور زیور اخلاق سے آراستہ ہوا کرتے تھے، گویا کتابوں کے ساتھ طلبہ اساتذہ کو بھی پڑھتے تھے اور ان کے علم و فکر اور عمل و آگہی سے وافر مقدار میں حظ اٹھایا کرتے تھے..........
خانقاہوں کا تابناک دور آج بھی تر و تازہ ہے کہ ان روحانی درسگاہوں سے علم و عرفان کی مہک اٹھتی تھی اور ایک عالم اس کی خشبوؤں سے معطر ہوا کرتا تھا.......
لیکن آج منظر نامہ یک سر بدل چکا ہے، علم برائے کتاب رہ گیا اور اب مدار انتخاب یہ بن چکا ہے کہ فلاں بڑے مدرسہ میں یا فلاں یونیوسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کی جائے، جس کا نقصان یہ ہوا کہ اب کتاب خواں تو خوب پیدا ہو رہے ہیں لیکن صاحب کتاب عنقا ہو گئے ....
اسکولی نظام اور مدارس کا طریقہ کار تو ہم بدل نہیں سکتے لیکن یہ بیداری پیدا کرنے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے کہ طالبان علوم اپنی درسگاہوں کے انتخاب کا معیار صاحبانِ علم کو بنائیں اور تعلیم دینے والے افراد اپنے وجود کو خلوص و دینداری کا مظہر بنائیں اور جو ان کے پاس طالب علم بن کر زانوئے تلمذ تہہ کر رہے ہیں ان کے سامنے کتاب کے ساتھ خود کو نمونہ کتاب بنا کر پیش کریں تب کہیں جا کر علمی و فکری زوال کا سد باب ہونا ممکن نظر آئے گا.......
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
(علامہ اقبال)
اسلام کی تعلیمات کا وہ زریں دور تھا جب تشنگان علوم نبویہ حصول علم کے لیے مدارس اور جامعات کا نہیں بلکہ اساتذہ کا انتخاب کیا کرتے تھے، یہ فکر بنی ہوئی تھی کہ فلاں علم فلاں صاحبِ علم سے حاصل کرنا ہے، جو علم و عمل میں کامل اور زیور اخلاق سے آراستہ ہوا کرتے تھے، گویا کتابوں کے ساتھ طلبہ اساتذہ کو بھی پڑھتے تھے اور ان کے علم و فکر اور عمل و آگہی سے وافر مقدار میں حظ اٹھایا کرتے تھے..........
خانقاہوں کا تابناک دور آج بھی تر و تازہ ہے کہ ان روحانی درسگاہوں سے علم و عرفان کی مہک اٹھتی تھی اور ایک عالم اس کی خشبوؤں سے معطر ہوا کرتا تھا.......
لیکن آج منظر نامہ یک سر بدل چکا ہے، علم برائے کتاب رہ گیا اور اب مدار انتخاب یہ بن چکا ہے کہ فلاں بڑے مدرسہ میں یا فلاں یونیوسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کی جائے، جس کا نقصان یہ ہوا کہ اب کتاب خواں تو خوب پیدا ہو رہے ہیں لیکن صاحب کتاب عنقا ہو گئے ....
اسکولی نظام اور مدارس کا طریقہ کار تو ہم بدل نہیں سکتے لیکن یہ بیداری پیدا کرنے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے کہ طالبان علوم اپنی درسگاہوں کے انتخاب کا معیار صاحبانِ علم کو بنائیں اور تعلیم دینے والے افراد اپنے وجود کو خلوص و دینداری کا مظہر بنائیں اور جو ان کے پاس طالب علم بن کر زانوئے تلمذ تہہ کر رہے ہیں ان کے سامنے کتاب کے ساتھ خود کو نمونہ کتاب بنا کر پیش کریں تب کہیں جا کر علمی و فکری زوال کا سد باب ہونا ممکن نظر آئے گا.......

No comments:
Post a Comment
Thank You