Muhabbat e Kul Ke Paikar - Mere Nana Jaan

اسوۂ حسنہ کی تصویر، محبتِ کُل کے پیکر میرے مشفق نانا جان حضرت مولانا صابر حسین رضوی

بندگانِ خدا کا یہ خاص وصف ہے کہ جب اسلام اور روحانیت ان کی زندگی کا لازمہ بن جاتا ہے تو وہ "الخلق عیال اللہ" کے پیش نظر اللہ کے بندوں کے لیے بہر صورت مفید بن جاتے ہیں...پھر نہ تو انہیں اپنی تنگ دامنی کا شکوہ رہتا ہے اور نہ ہی زندگی کی رکاوٹیں ان کے جذبۂ ایمانی کو سرد کرتی ہیں بلکہ ان کا ہر قدم جہد مسلسل اور عمل پہیم کی لا زوال داستان رقم کرتا جاتا ہے.......
ضلع دربھنگہ، بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں "ٹکٹار" کے رہنے والے میرے نانا جان حضرت مولانا صابر حسین رضوی ان ہی خاصان خدا میں سے ایک ہیں جن کا فقر "فقرِحیدری" اور جن کی دولت "دولت عثمانی" سے عبارت ہے.
آپ کی سادہ مزاجی اور دل بدست آوری کے وصف سے ہر شناسا واقف ہے، یہ بات کرامت سے کم نہیں کہ آپ نے جتنا پڑھا اس کو حتی المقدور اپنی زندگی میں نافذ العمل کیا، اب تک جس سے جس موڑ پر ملے وہ آپ کی والہانہ مسکراہٹ اور پرتپاک ملاقات کو بھول نہیں پایا.
آپ کی عنایتوں اور محبتوں کے زیر سایہ بچپن کا کافی حصہ میں نے نانیہال میں ہی گزارا ہے، آپ کی تربیت و توجہات کا ثمرہ یہ ملا کہ لکھنے پڑھنے کا شوق پروان چڑھا اور اپنے ہوش و حواس میں اردو، فارسی کی ابتدائی تعلیم اور بالخصوص اردو املا نگاری کا فن آپ سے ہی حاصل کیا...
آپ مفتی اعظم ہند رحمہ اللہ کے مرید اور ان کے صحبت یافتہ ہیں. گاؤں میں بلا اجرت امامت اور دین و سنیت کی بقا می‍ں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے. مجھے یاد ہے کہ جب تک آپ میں سکت رہی آپ نے نماز کو وقت پر ادا فرمایا، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن، بازار جہاں موقع ملتا قبلہ رو ہو کر تکبیر بلند کر دیتے........فی الحال آپ کی طبیعت ناساز ہے اور پیرانہ سالی سے گزر رہے ہیں. اللہ سے دعا ہے کہ صحت و سلامتی کے ساتھ آپ کو تاحیات باقی رکھے، آمین

(نانا جان علیہ الرحمہ 1 مئی 2017 مطابق 4 شعبان المعظم 1437 کی صبح انتقال فرما گئے. اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)

No comments:

Post a Comment

Thank You

Pages